لاہور: غیر ملکی خواتین سے زیادتی کے کیس میں نیا موڑ، کرپٹو کرنسی کا تنازع نکلا

7

لاہور(3 جولائی 2026): لاہور میں غیر ملکی خواتین سے زیادتی اور مبینہ اغوا کے معاملے پر پولیس تفتیش نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ معاملہ بنیادی طور پر غیر ملکی خواتین اور مرکزی ملزم رضا ڈار کے درمیان کرپٹو کرنسی کے ایک بڑے مالی تنازع کا شاخسانہ ہے۔

تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم رضا ڈار نے غیر ملکی خواتین سے 15 لاکھ امریکی ڈالر وصول کرنے تھے، جو پاکستانی روپوں میں تقریباً 45 کروڑ روپے کی بھاری رقم بنتی ہے۔

اس رقم کی وصولی کے لیے ملزم رضا ڈار نے خواتین کو ایک بہانے سے پاکستان بلوایا اور پھر ان کے اغوا کا ڈراما رچایا۔ اس ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے ملزم نے خود کو بھی اغوا ہونے والوں میں شامل ظاہر کیا۔

پولیس کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کے لیے مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت دیگر گرفتار ملزمان کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پولیس عدالت سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گی تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی مکمل تفتیش کی جا سکے۔

یاد رہے کہ مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا، جبکہ پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دو جولائی کو ملی، جس کے بعد تفتیش کاروں نے ہالینڈ اور سپین سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بازیاب کروایا۔

اس مقدمے کی ایف آئی آر لاہور کے تھانہ ڈیفینس سی میں درج کی گئی ہے جبکہ جمعہ کے صبح ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کر کے اُن کا پانچ روزہ ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔