کراچی میں جرائم کا جن بے قابو: گزشتہ 6 ماہ کے دوران 264 افراد قتل

9

کراچی : رواں سال کے 6 ماہ میں کراچی میں مختلف پُرتشدد واقعات میں 264 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ معصوم بچوں کے اغوا یا گمشدگی کے 224 واقعات سامنے آئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی ایک بار پھر اسٹریٹ کرائم اور سنگین جرائم کی لپیٹ میں ہے، رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران شہر بھر میں جرائم کی 34 ہزار سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ اس تشویشناک رپورٹ میں قتل، اغوا، اور گاڑیوں کی چوری و چھیننے کی ہولناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران شہر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر مختلف پُرتشدد واقعات میں 264 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس میں قتل ہونے والوں میں 40 ایسے شہری بھی شامل ہیں جنہیں بے رحم ڈکیتوں نے دورانِ لوٹ مار مزاحمت کرنے پر گولی مار کر موت کے گھاٹ اتارا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور اقدامِ قتل کے 443 واقعات رونما ہوئے جبکہ معمولی و ذاتی تنازعات اور دیگر معاملات پر اغوا کے 1,788 واقعات درج ہوئے۔

رواں سال کے ان 6 مہینوں میں معصوم بچوں کے اغوا یا گمشدگی کے 224 واقعات سامنے آئے، پولیس ریکارڈ کے مطابق ہائی پروفائل اغوا برائے تاوان کے 18 کیسز رپورٹ کیے گئے۔

شہریوں کے گھر اور کاروبار بھی محفوظ نہ رہ سکے، جہاں ہائی ویز، دکانوں، اور گھروں میں ڈکیتی و چوری کی مجموعی طور پر 2,530 وارداتیں ہوئیں، جب کہ چوری کے دیگر متفرق 1,485 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

کراچی میں گاڑیوں کی چوری روز کا معمول بن چکی ہے، گزشتہ 6 ماہ میں شہر بھر سے 5,777 موٹرسائیکلیں چھینی اور چوری کی گئیں ، شہریوں کو 636 کاروں سے محروم کر دیا گیا۔

مختلف علاقوں سے 194 دیگر گاڑیاں (کمرشل یا لوڈر وغیرہ) بھی چوری یا چھین لی گئیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران شہر بھر میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور نمائش کرنے کے 3,394 کیسز رجسٹرڈ کیے گئے، اس کے علاوہ، سماجی برائیوں کے خلاف کارروائی کے دوران جوئے اور سٹے بازی کے 246 کیسز رپورٹ ہوئے۔