پرتگال میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کا قانون نافذ

50

پرتگال کے صدر انتونیو ژوزے سیگورو نے عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کرنے والے قانون کی منظوری دے دی، جسے مقامی میڈیا کی جانب سے ’’برقع قانون‘‘ قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے یہ قانون دائیں بازو کی حکمران جماعت اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے جولائی میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔

نئے قانون کے تحت عوامی مقامات پر ایسے لباس پہننے پر پابندی ہوگی جو چہرہ چھپانے یا کسی شخص کی شناخت میں رکاوٹ بننے کے لیے تیار کیے گئے ہوں۔ قانون میں کسی فرد کو جنس، مذہب، عمر یا نسلی پس منظر کی بنیاد پر چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کرنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔

پرتگال کے صدر نے قانون کی منظوری کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ چہرے کو انسانی شناخت اور رابطے کا بنیادی عنصر سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے تاہم تسلیم کیا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس سماجی اور ثقافتی نوعیت کا حامل ہے۔

مقامی میڈیا نے قانون کو ’’برقع قانون‘‘ کا نام دیا ہے کیونکہ اس کا اطلاق ان لباس پر بھی ہوسکتا ہے جن کے ذریعے بعض مسلم خواتین اپنا چہرہ اور جسم ڈھانپتی ہیں۔

حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے اس نوعیت کی پابندیوں پر ماضی میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لباس کے انتخاب پر قانونی پابندیاں خواتین کے حقوق کو بھی متاثر کرسکتی ہیں۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 150 سے 3 ہزار یورو تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم قانون میں بعض استثنیٰ بھی رکھے گئے ہیں۔ صحت، پیشہ ورانہ امور، فنکارانہ سرگرمیوں یا موسم کی صورتحال کی وجہ سے چہرہ ڈھانپنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ عبادت گاہوں، سفارتی مشنز اور ہوائی جہازوں کے اندر بھی اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

نئے قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چہرے کی شناخت عوامی رابطے اور سلامتی کے لیے اہم ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون کے ذریعے مخصوص مذہبی لباس کو بالواسطہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔