آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کے لیے سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے زیرِ بحث ناموں میں بیرسٹر افتخار گیلانی بھی شامل ہیں۔ ان کا قانونی پس منظر، اعلیٰ تعلیم اور حکومتی امور کا تجربہ انہیں اس نشست کے لیے ایک نمایاں امیدوار بناتا ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر حکومت میں وزیرِ تعلیم اور وزیرِ اعلیٰ تعلیم کی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ ان کے دورِ وزارت میں تعلیمی شعبے میں میرٹ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ اساتذہ کی بھرتیوں میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کو تھرڈ پارٹی کے طور پر شامل کرنا اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت تھی، جس کا مقصد بھرتیوں کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا تھا۔
تعلیمی نظام میں بائیومیٹرک حاضری، اساتذہ کی تربیت اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون جیسے اقدامات بھی ان کے دور سے منسلک رہے۔ برٹش کونسل کے ساتھ تعلیمی تعاون کے معاہدے میں اساتذہ کی تربیت اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف پروگرام شامل تھے۔
قانون کی تعلیم اور حکومتی سطح پر عملی تجربے کا امتزاج بیرسٹر افتخار گیلانی کو قانون سازی اور پالیسی سازی کے حوالے سے ایک مختلف پس منظر فراہم کرتا ہے۔ ٹیکنوکریٹ نشست کا مقصد بھی ایسے افراد کو اسمبلی میں لانا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تجربے کو ریاستی پالیسیوں میں استعمال کر سکیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی میں آنے کا موقع ملتا ہے تو کیا وہ اپنے سابقہ تجربے اور اصلاحاتی وژن کو وسیع تر قانون سازی اور آزاد کشمیر کی ادارہ جاتی ترقی میں تبدیل کر سکیں گے