پنڈی مال روڈ واقعے کا ملزم کے پی ہاؤس میں رہتا رہا اور پی ٹی آئی قیادت سے ملتا رہا، طلال چوہدری

38

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت راولپنڈی مال روڈ واقعے سے خود کو بری الذمہ نہیں قرار دے سکتی، ہلاک ملزم خیبر پختونخوا ہاؤس میں رہتا رہا اور تحریک انصاف کی قیادت سے بھی ملتا رہا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا راولپنڈی کے مال روڈ پر گزشتہ روز ایک افسوسناک واقعہ پپیش آیا، ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے کارکن نے بغیر کسی ڈر کے سیدھے فائر کیے، سکیورٹی فورس کا جوان زخمی ہوا۔

ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی کو کہا گیا کہ نفرت انتشار، تشدد کی سیاست نہ کریں، نوجوان کے ذہنوں میں نفرت اور انتشار نہ بھریں، نفرت اور انتشار کی سیاست کی وجہ سے 9 مئی اور 26 نومبر جیسے سانحات رونما ہوئے اور اسی وجہ سے کل کا واقعہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت یہ کہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ ان کا ورکر سے کوئی تعلق نہیں یا اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا، اگر دماغی تواازن ٹھیک نہیں تھا تو اس نے آپنے گھر والوں پر حملہ کیوں نہیں کیا، اپنی پارٹی کے کسی لیڈر پر حملہ کیوں نہیں کیا، جس سپاہی پر حملہ کیا گیا، کیا وہ کسی سیاسی جماعت سے تھا۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا یہ کارکن خیبرپختونخوا ہاؤس میں رہتا رہا اور پارٹی قیادت سے بھی ملتا رہا، اس شخص نے پارٹی کا جھنڈا اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا، سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز ہیں جس میں یہ فورسز پر حملے کر رہا ہے، آپ اس کارکن کو مظاہروں میں فرنٹ لائن پر کیوں رکھتے رہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ توڑ پھوڑ،آگ لگا دو کیا یہ سیاست ہے، ایک صوبے میں 17 سال سے آپ کی حکومت نے وہاں کے عوام کو کیا دیا، جلاؤ گھیراؤ سے نہ آپ پارٹی کی خدمت کررہے ہیں نہ صوبے کی۔

ان کا کہنا تھا 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی کھیل کھیلا جائے گا، جب کارکنوں کے ذہنوں میں نفرت اور آگ بھری جائے گی تو وہ ایسا ہی کریں گے، بانی پی ٹی آئی کے بیانات ہوں یا تقریریں وہ عوام کے ذہن میں نفرت اور انتشار بھرتے رہے، سپاہی تو سپاہی، جو شہید ہوئے آپ نے ان کے مجسمے بھی نہ چھوڑے، آپ کی سوشل میڈیا پوسٹیں ہمارے شہدا کی تضحیک کرتی ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ راولپنڈی واقعے کی تحقیقات آگے بڑھی ہیں، صاف شفاف تحقیقات ہو رہی ہے جس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے، پاکستان کو سیاسی عدم استحکام کا شکار نہیں کرنے دیں گے، اگر ایسا حملہ ہوگا تو حملہ آور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔