گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، ملک میں بڑے بحران کا خدشہ

42

کراچی : گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث امپورٹ، ایکسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل شدید متاثر ہے ، جس سے ملک میں ایک بڑے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال کے باعث پاکستان میں ایک اور شدید اقتصادی و صنعتی بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

وفاقی حکومت اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات کی منظوری اور باقاعدہ نوٹیفکیشن کے جاری ہونے تک پہیہ جام ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

وزارتِ مواصلات میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں ٹرانسپورٹرز کے تمام مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

حکومتی موقف: صدر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد شہزاد اعوان کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے مسائل کے حل کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی، تاہم مذاکرات میں مطالبات کی حتمی منظوری یا کسی باقاعدہ معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔

ٹرانسپورٹرز کا واضح موقف: گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز اپنے جائز اور قانونی مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے، جب تک مطالبات کی منظوری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔

ہڑتال کے طویل ہونے سے ملک بھر میں کاروباری اور صنعتی پہیہ جام ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ، ملک بھر کی صنعتوں کو خام مال کی فراہمی بند ہو چکی ہے، جس سے کارخانوں میں پیداواری عمل متاثر ہو رہا ہے۔

مارکیٹوں اور پروڈکشن یونٹس تک خوردنی تیل سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل بالکل معطل ہو گئی ہے ، جس کے باعث ملکی معیشت، سپلائی چین اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک بار پھر شدید خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔